عمر بن خطاب،⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

عمر بن خطاب

اسلام کے دوسرے خلیفہ


ابو حفص عمر بن خطاب عدوی قرشی ملقب بہ فاروق (پیدائش: 586ء تا 590ء کے درمیان مکہ میں- وفات: 6 نومبر، 644ء مدینہ میں) ابو بکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

اجمالی معلومات: عُمر بن الخطّاب, ابو حفص، الفاروق، امير المؤمنين فاروق اعظم

عمر بن خطاب ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔

نام ونسب

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔ جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

ابتدائی زندگی

آپ مکہ میں پید ا ہوئے اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ علم انساب، سپہ گری، پہلوانی اور مقرری میں آپ طاق تھے۔

عمراور ان کے باپ اور ان کے دادا تینوں انساب کے بہت بڑے ماہر تھے
آپ عکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو عمر نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے عمر نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے۔

ہجرت

ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا ” تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے” مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ مواخات مدینہ میں قبیلہ بنو سالم کے سردار عتبان بن مالک کوآپ کا بھائی قراردیا گیا۔

غزوات نبوی میں شرکت

واقعات

وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا۔ تو عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے، عبداللّٰہ ابن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔[حوالہ درکار]

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گزری۔ بعض کہنے لگے یہ باندی کی ہے۔ آ پ ( عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :

  1. گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
  2. عمدہ کھانا نہ کھانا۔
  3. باریک کپڑا نہ پہننا۔
  4. حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔

اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عادات

عمر علی سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق  عمر کی شہادت کے بعد جب علی آئے تو فرمایا میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

حدیث میں ذکر

ان 10 صحابہ کرام م اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔

شہادت

ایک غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

فضائل

اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔
جبرائیل و میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ ابوبکر و عمر میرے دو زمینی وزیر ہیں۔
میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔

اہل بیت سے مروی فضائل

ٌ* علی سے روایت ہے کہ [أن عمر لیقول القول فینزل القرآن بتصدیقہ }}(بیشک عمر فاروق البتہ جب کوئی کہتے ہیں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے )* فضل بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [عمر معنی وأنا مع عمر،والحق بعدی مع عمر حیث کان ]}}(میں عمر() کے ساتھ ہوں اور عمر ( ) میرے ساتھ ہیں اور حق میرے بعد عمر () کے ساتھ ہو گا)* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ[ نظر رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- إلى عمر ذات يوم وتبسم، فقال: “يابن الخطاب، أتدري لم تبسمت إليك?” قال: اللہ ورسولہ أعلم، قال: “إن اللہ -عز وجل- نظر إليك بالشفقة والرحمة ليلة عرفة، وجعلك مفتاح الإسلام]}} ( رسول اکرم ﷺ نے عمر فاروق کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا اے ابن خطاب !کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کیوں فرمایا تو عمرفاروق عرض کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی نے آپ کی طرف عرفہ کی رات رحمت اور شفقت سے نظر فرمائی اور آپ کو مفتاح اسلام (اسلام کی چابی) بنایا )* علی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا “عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة”( عمر فاروق اہل جنت کے سردار ہیں )جب عمر فاروق تک یہ بات پہنچی تو آپ ایک جماعت کے ساتھ علی کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ سے سُنا ہے کہ عمر فاروق اہل جنت کے چراغ ہیں علی جواب دیا جی ہاں عمر فاروق نے فرمایا آپ مجھے یہ تحریر لکھ دیں تو علی نے لکھا (“بسم اللہ الرحمن الرحيم: هذا ما ضمن علي بن أبي طالب لعمر بن الخطاب عن رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- عن جبريل عن اللہ تعالى أن عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة” عمر فاروق نے یہ تحریر لے کر اپنی اولاد میں سے ایک بیٹا کو دی اور فرمایا (إذا أنا مت وغسلتموني وكفنتموني فأدرجوا هذہ معي في كفني حتى ألقى بها ربي، فلما أصيب غسل وكفن وأدرجت مع في كفنہ ودفن)جب میرا وصال ہو جائے تو مجھے غسل وکفن دینا اور پھر یہ تحریر میرے کفن میں ڈال دینا یہاں تک میں اپنے رب سے ملاقات کروں جب آپ وصال فرما گئے تو آپ کو غسل اور کفن دیا گیا اور آپ کے کفن میں وہ تحریر رکھ کر دفن کر دیا گیا ۔}}* کثیر ابو اسماعیل سے روایت ہے کہ میں نے نے ابو جعفر محمد بن علی سے ابو بکر اور عمر فاروق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا[ بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ نِفَاقٌ، وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ نِفَاقٌ۔ يَا كَثِيرُ مَنْ شَكَّ فِيهِمَا، فَقَدْ شَكَّ فِي السُّنَّةِ]}}( ابوبکر ، عمر فاروق اور انصار کا بغض نفاق ہے۔ اے کثیر جس نے ان دونوں حضرات کے بارے میں شک کیا اس نے سنت میں شک کیا )* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [اللَّهمّ أعزّ الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطّاب]}}(اے اللہ اسلام کو ابو جہل بن ھشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے)تو عمر فاروق نے صبح کی اور رسول اکرم ﷺ کے پاس آ گئے۔* ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَوَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ “}}* علی سے روایت ہے [ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، إِلا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ “، ثُمَّ قَالَ لِي: ” يَا عَلِيُّ، لا تُخْبِرْهُمَا ]}}کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا پس ابو بکر وعمر م تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے کہا اے علی () یہ دونوں اہل جنت کے اولین وآخرین کے بوڑھی عمر والوں کے سردار ہیں انبیاومرسلین کے علاوہ پھر مجھے کہا کہ اے علی ،تم ان دونوں کو اس بات کی خبر نہ دینا۔* ابن عباس سے فرماتے ہیں [أَكْثِرُوا ذِكْرَ عُمَرَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا ذَكَرْتُمُوهُ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ، وَإِنْ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ ذَكَرْتُمُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى]}} عمر فاروق کا کثرت کے ساتھ ذکر کیا کرو جب تم ان کا ذکر کرتے ہوتو تم عدل کا ذکر کرتے ہو اور جب تم عدل کا ذکر کرتے ہو تو تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو۔

عمر بن خطاب اور اقوالِ عالَم

میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ از محمدصلی اللہ علیہ وسلم
اگر دنیا کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور عمر کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر کا پلڑا بھاری ہوگا۔ از عبداللہ بن مسعود
عمر کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ وہ قوی و امین ہیں۔ از سیدنا علی
ابوبکر و عمر تاریخِ اسلام کی دوشاہکار شخصیتیں ہیں۔ ایچ جی ویلز

Poetry

‏کربلا یې که په وینو باندې سره شوه
د حسین جذبه سړه نه شوه توده شوه

دا د چا د وینو اوښکو تسلسل دی؟
دا سینه د ځمکې څه باندې لمده شوه؟
‎#mdk

سر میں چکر آنے کاوجوہات

اگر آپ کبھی اچانک کھڑے ہوئے ہوں اور پھر سر چکرانے پر حیرت ہو تو یہ سوال ذہن میں ضرور آئے گا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ متعدد وجوہات اس کے پیچھے ہوسکتی ہیں جن میں کچھ عام جبکہ کچھ سنگین بھی ہوسکتی ہیں۔

یہاں آپ کو وہ ممکنہ وجوہات بتائی جارہی ہیں جو کہ اکثر سر چکرانے کا باعث بنتی ہیں۔

لو بلڈ پریشر

اگر تو لیٹنے کے بعد بیٹھنے یا کھڑے ہونر پر اچانک سر چکرانے لگے تو یہ ممکنہ طور پر بلڈ پریشر میں اچانک بہت زیادہ کمی کی نشانی ہوسکتی ہے، طبی ماہرین کے مطابق جب آپ بیٹھنے یا لیٹنے کے بعد اچانک تیزی سے کھڑے ہوتے ہیں تو جسم ین گردش کرتا خون اتنی تیزی سے سر تک نہیں پہنچ پاتا جس کے نتیجے میں سر چکراتا ہوا محسوس ہوتا ہے، اگر آپ کو اکثر ایسی شکایت ہوتی ہو تو آرام سے پوزیشن بدلنے کو عادت بنائیں جبکہ ڈاکٹر کو فوری طورپر بلڈ پریشر چیک کروائیں۔

پانی کی کمی

جسم میں پانی کی معمولی سی کمی بھی غشی، سر چکرانے اور غیر متوازن جسمانی حالت کا باعث بن سکتی ہے، جس کی وجہ جسم میں دوران خون کی گردش میں کمی ہوتی ہے، جسم میں پانی کی کمی بلڈ پریشر کو تیزی سے کم کرتی ہے جو اس تکلیف کا باعث بنتی ہے۔

چائے یا کافی کا زیادہ استعمال

چائے یا کافی میں شامل کیفین کی کافی زیادہ مقدار کو جسم کا حصہ بنالیا جائے تو اس کے نتیجے میں بھی سر چکرانے لگتا ہے، درحقیقت کیفین دوران خون کو دماغ کی جانب سے روکتا ہے جس کے نتیجے میں سر چکرانے لگتا ہے۔

بہت زیادہ فکرمندی

ہر انسان فکرمند ہوتا ہے مگر جب یہ ذہنی بے چینی بہت زیادہ ہوجائے تو اس کے ساتھ سر بھی چکرانے لگتا ہے، ایسا ہونے پر لگتا ہے کہ جیسے سر ہلکا ہوکر گھوم رہا ہے، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے جبکہ سانسیں بھاری ہوجاتی ہیں، اگر آپ خود کو پرسکون رکھنے میں ناکام ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

دماغی صدمہ جس سے سر اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہو

اگر آپ کا سر کسی چیز سے حال ہی میں ٹکرایا ہو چاہے وہ گھر کا کوئی دروازہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے نتیجے میں سر چکرانے کی وجہ دماغی صدمہ ہوتا ہے، عام طور پر ایسے صدمے معتدل ہوتے ہیں مگر یہ سب دماغ میں کسی نہ کسی قسم کی انجری کا باعث بنتے ہیں اور کسی ماہر کو دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر اگر چوٹ لگنے کے بعد اکثر سر چکرانے لگے، یہ کیفیت چند گھنٹے یا چند ہفتے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

کانوں کا انفیکشن

کانوں کے درمیان اگر انفیکشن ہوجائے تو اس سے کانوں کے پردے کے پیچھے مواد جمع ہونے لگتا ہے جو کہ جسمانی توازن کو بگاڑتا ہے اور سر چکرانے کی شکایت کافی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔

وٹامن بی 1 کی کمی

جسم میں وٹامن بی 1 کی کمی بھی سر چکرانے کی ایک اور وجہ ہے، جسم کے لیے درکاری یہ ضروری جز مرکزی اعصابی نظام کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس کی کمی سے کمزوری اور غیر معمولی دل کی دھڑکن کی شکایت ہوتی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ دل کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے جو کہ دماغ کی جانب خون کی سپلائی میں رکاوٹ بنتی ہے جس کے باعث سر چکرانے لگتا ہے، اس کا طبی معائنہ کرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

‏وايه کنه حال څه دی؟
وخته د يار خيال څه دی؟

زړه که سمندر نه کړي
نور د عشق مجال څه دی؟

دې ښايست ته عقل څه؟
دې مستۍ ته ټال څه دی؟

ستا د بڼو غشو ته
زغره څه ده ډال څه دی؟

تا انتظار څه کړی
ستا وعدې ته کال څه دی؟

ستا نه به توبه کړمه
دا دې په ما خيال څه دی؟

والدہ کی طرف سے کتنی حیرت انگیز محبت ہے جو اپنے بیٹے کو دنیا کا خوبصورت آدمی سمجھے جانے کا خواب دیکھتی ہے۔ اس کے پاس وسائل محدود ہیں لیکن نہ ختم ہونے والی محبت جو اس نے ثابت کردی ہے۔

ماں

‏‎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کاش میری ماں زندہ ہوتی میں عشاء کی نماز پڑھ رہاہوتاوہ مجھےآوازدیتی اےمحمدتومیں نمازتوڑکےکہتاجی اماں پہلےآپ بولیں میں نمازبعدمیں پڑھ لونگا🤩

اللہ کا حبیب جس ہستی کےلیےایسےکلمات ادا کرےاس کاکوئی ثانی کیسےہوسکتاہےجس😍
ہرماں خوشحال رہے😍